26 جون 2026 - 11:57
اسرائیل کو ذلت کے ساتھ لبنان سے نکلنا ہوگا، شیخ نعیم قاسم

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے جمعہ کے دن اپنے خطاب میں کہا کہ ایران نے ایک مفاہمت نامے تک رسائی حاصل کی جو امریکہ اور صہیونی ریاست کی باضابطہ شکست کا اعلان تھا، اور مقاومت اسلامی جمہوریہ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سیکرٹری جنرل حزب اللہ، شیخ نعیم قاسم نے آج جمعہ کے دن یوم عاشورا کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایران نے جارحیت کا نشانہ بننے کے باوجود، استقامت کی اور جم کر کھڑا رہا۔

شیخ قاسم نے لبنان میں یوم عاشورا کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "ایران نے ایک مفاہمت نامہ حاصل کیا جو امریکہ اور اسرائیل کی باضابطہ شکست کا اعلان تھا۔ آج، ایران مستقبل کی تشکیل کر رہا ہے، نہ صرف اپنے لئے، بلکہ پورے خطے کے لئے"۔

المنار نیٹ ورک کے مطابق، انھوں نے: "ہم ایران کے شکرگزار ہیں؛ لبنان کی خودمختاری کی بنیادی حمایت کے طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے"۔

قاسم نے واضح کیا: "ہم اور ایران مل کر امریکی-اسرائیلی منصوبے کے خلاف لڑے، اور ہم ایران کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ہم متحد رہنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ آپ (ایران) کی طاقت، میدان میں مقاومتی تحریکوں کے مجاہدین کی طاقت کے ساتھ مل کر، اسرائیل کو شکست دینے اور اسے ہماری سرزمین سے نکالنے کے لئے مناسب توازن قائم کرنے میں ممد و معاون ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک جنگ کا سامنا کرنا پڑا جس کا مقصد حزب اللہ، اس کے حمایتی سماجی ڈھانچوں، اس کے لوگوں اور لبنان میں اس سے منسلک شہریوں کو تباہ کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا: "اسرائیل لبنان میں موجود ہے کیونکہ وہ "گریٹر اسرائیل" کے منصوبے کے حصے کے طور پر اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ مقاومت اس جارحیت اور قبضے کے رد عمل میں وجود میں آئی"۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: "اسرائیلی-امریکی جارحیت شہریوں کے خلاف زمین، سمندر اور فضا کے ذریعے، ایک بڑی جنگ اور ہمارے وجود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ایک بڑا خطرہ تھی۔ ہم نے اپنی معزز اور عظیم عوام کے کربلائی موقف کے ساتھ، اس جارحیت کو روکنے اور ایک بڑی فتح حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی"۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا: "ہم نے اسرائیلی-امریکی منصوبے کو توڑ دیا اور ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے۔"

انہوں نے تاکید کی: "اسرائیل کے پاس لبنان کی ہر انچ مٹی سے مکمل انخلا اور اپنی فضائی، زمینی اور سمندری جارحیت روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں"۔

حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے توسیع پسندانہ اہداف کے حصول میں جارحین کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی: "اسرائیل کو غیر مشروط طور پر لبنان سے نکلنا ہوگا۔ لبنان کی خودمختاری کے خلاف کوئی عہد و معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا اور کسی کو بھی کسی طرح کے کسی کاغذ پر دستخط کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔"

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تمام مسائل کا کوئی بھی حل لبنان کی مکمل خودمختاری اور مکمل آزادی پر مبنی ہونا چاہئے۔"

انھوں نے نشاندہی کی: "نہ معمول سازی، نہ دشمنی کی حالت کا خاتمہ، نہ اسرائیل کے لئے کوئی کامیابی اور نہ لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کی کوئی جزوی موجودگی۔ اسرائیل کو ذلیل اور شکست خوردہ ہو کر نکلنا ہوگا، اور ہوگا تو یہی ہو گا"۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا: "لبنانی حکومت لبنان کی نصف سے زیادہ آبادی سے دشمنی اور اختلاف کرکے بھی، معمول کے مطابق کام نہیں کر سکتی۔"

انھوں نے مزید کہا: "لبنانی حکومت کو دشمن کی سرپرستی اور دشمن کے احکامات پر عمل درآمد روک دینا چاہئے اور ان فیصلوں کو ترک کرنا چاہئے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی خدمت کرتے ہیں"۔

انھوں نے لبنانی حکومت کی مدد کے لئے حزب اللہ کی آمادگی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے مخاطب ہوکر کہا: "موقع سے فائدہ اٹھاؤ۔ مقاومت مضبوط ہے اور اگر لبنان کی خودمختاری کی راہ پر گامزن ہو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیں گے۔ اس مرحلے میں، اسرائیل کے انخلا کے بعد، ہم مشترکہ طور پر قومی سلامتی کی جامع حکمت عملی کا جائزہ لیں گے"۔

دبیرکل حزب‌الله تصریح کرد: "با کشورهای عربی و خارجی که به لبنان در حاکمیت و بازسازی آن کمک می‌کنند، تا حد امکان همکاری کنیم. ما افرادی را می‌خواهیم که از حاکمیت ما حمایت کنند، نه کسانی که تحت پوشش دفاع از حاکمیت ما از اسرائیل حمایت می‌کنند".

قاسم ادامه داد: "ما از کشورهای عربی و خارجی که در زمینه بازسازی، احیای حاکمیت و تقویت ارتش لبنان فعالیت می‌کنند، استقبال می‌کنیم. ما از کشورهای عربی و خارجی که برای اخراج اسرائیل و ایجاد یک لابی قوی برای جلوگیری از دستیابی آن به اهدافش تلاش می‌کنند، استقبال می‌کنیم".

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے واضح کیا: "عرب اور غیر ملکی ممالک کے ساتھ، جو لبنان کی خودمختاری اور تعمیر نو میں مدد دیتے ہیں، جہاں تک ممکن ہو تعاون کریں گے۔ ہم ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ہماری خودمختاری کی حمایت کریں، نہ کہ وہ لوگ جو ہماری خودمختاری کے تحفظ کی آڑ میں اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں"۔

شیخ قاسم نے مزید کہا: "ہم عرب اور غیر ملکی ممالک کا خیرمقدم کرتے ہیں جو تعمیر نو، خودمختاری کی بحالی اور لبنانی فوج کو مضبوط بنانے کے میدان میں سرگرم ہیں۔ ہم عرب اور غیر ملکی ممالک کا خیرمقدم کرتے ہیں جو اسرائیل کو نکالنے اور اس کے اہداف کے حصول کو روکنے کے لیے ایک مضبوط لابی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

انھوں نے محور مقاومت کے عوام کے بارے میں بھی کہا: "ہمیں غزہ اور فلسطین کے عوام کو سلام پیش کرنا چاہئے۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور فلسطین اور اس کی آزادی ہمارا قطب نما رہے گی۔ یمن کے عوام، ان کی قیادت اور مسلح افواج کو سلام جو اس وقت مضبوطی سے کھڑے رہے جب دنیا نے فلسطین، لبنان اور محور مقاومت کو تنہا چھوڑ دیا"۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: "عراق کے عوام کو سلام - ان کے دینی مراجع، عوامی رضاکار فورسز، ان کی قیادت اور ان کی حکومت - کو سلام، ان کی توجہ اور مدد اور ہمارے ساتھ کھڑے ہونے پر۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha